:
Breaking News

کیجریوال اور منیش سسودیا کا جسٹس سونرکانتا کی عدالت میں پیش ہونے سے انکار، دہلی ہائی کورٹ کی کارروائی پر بڑا سوال

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

دہلی شراب پالیسی گھوٹالہ کیس میں اروند کیجریوال اور منیش سسودیا نے جسٹس سونرکانتا شرما کی عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے، جس کے بعد عدالتی کارروائی اور انصاف کے عمل پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔

دہلی کی سیاست ایک بار پھر عدلیہ اور سیاسی نظام کے درمیان کشیدگی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ شراب پالیسی گھوٹالہ کیس میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کی عدالت میں پیشی سے انکار نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے واضح طور پر جسٹس سونرکانتا شرما کی عدالت میں حاضر ہونے سے انکار کر دیا ہے، جس کے بعد عدالتی کارروائی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ مقدمہ دہلی ہائی کورٹ میں بدھ کے روز سماعت کے لیے مقرر تھا، جہاں دونوں اہم سیاسی شخصیات کو ذاتی طور پر پیش ہونا تھا۔ مگر اس سے قبل ہی صورتحال اس وقت بدل گئی جب اروند کیجریوال نے 27 اپریل کو ایک خط لکھ کر عدالت کو آگاہ کیا کہ انہیں انصاف کے حصول کی امید کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے اور وہ مہاتما گاندھی کے راستے پر چلتے ہوئے "ستیہ گرہ" کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔

اسی کے اگلے دن منیش سسودیا نے بھی عدالت کو ایک خط ارسال کیا جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ جسٹس سونرکانتا شرما کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔ اس طرح دونوں رہنماؤں نے عدالتی کارروائی سے علیحدگی اختیار کر لی، جس سے قانونی حلقوں میں شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔

یہ معاملہ صرف سیاسی تنازع تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ ایک سنگین قانونی بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر ملزمان عدالت میں حاضر نہیں ہوتے تو کیس کی سماعت کیسے آگے بڑھے گی اور عدالتی نظام اس صورت حال سے کیسے نمٹے گا۔

قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کے پاس یہ مکمل اختیار موجود ہے کہ وہ غیر موجودگی کے باوجود کیس کی سماعت جاری رکھ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں عدالت کسی آزاد وکیل کو "ایمی کُس کیوری" کے طور پر مقرر کر سکتی ہے جو غیر جانبدارانہ طور پر عدالت کی معاونت کرتا ہے اور دلائل پیش کرتا ہے تاکہ مقدمہ رکا نہ رہے۔

مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر عدالت یہ محسوس کرے کہ کسی فریق کی جانب سے جان بوجھ کر پیشی سے گریز کیا جا رہا ہے تو وہ سخت قدم اٹھا سکتی ہے، جس میں وارنٹ جاری کرنا یا دیگر قانونی احکامات شامل ہیں۔

اس معاملے کا ایک نہایت حساس پہلو یہ بھی ہے کہ کیجریوال نے اپنے حلف نامے میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ جسٹس سونرکانتا شرما کے دونوں بچے بھارت کے سالیسٹر جنرل Tushar Mehta کے تحت کام کرتے ہیں اور ان کے ذریعے ہی مقدمات کی تقسیم کا عمل ہوتا ہے۔ اس بنیاد پر کیجریوال نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کیس میں "مفادات کے ٹکراؤ" کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ جب ایک جج کے قریبی خاندانی تعلقات ایسے شخص سے منسلک ہوں جو سرکاری سطح پر مقدمات کی پیروی کرتا ہو، تو ایسے حالات میں غیر جانبدار انصاف پر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔ اسی مؤقف کے بعد منیش سسودیا نے بھی عدالت میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور کیجریوال کے مؤقف کی حمایت کی۔

یہ صورتحال اب ایک بڑے آئینی اور قانونی سوال کو جنم دے رہی ہے کہ کیا واقعی اس کیس میں عدالتی غیر جانبداری پر اثر پڑ سکتا ہے یا نہیں۔ دوسری جانب عدالتی حلقے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جج کی ذاتی یا خاندانی وابستگی خود بخود کسی کیس میں تعصب ثابت نہیں کرتی جب تک کہ اس کا براہ راست تعلق ثابت نہ ہو۔

سیاسی ماہرین کے مطابق یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے کیونکہ دونوں رہنما پہلے ہی اس کیس کو حکومت اور تحقیقاتی اداروں کی کارروائی سے جوڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ قانونی سے زیادہ سیاسی مقدمہ بنتا جا رہا ہے۔

اب عدالت کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا ہے کہ آیا وہ ان غیر موجودگیوں کے باوجود سماعت جاری رکھے گی یا پھر کوئی نیا قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ امکان یہ بھی ہے کہ عدالت معاملے کو مزید سختی سے دیکھتے ہوئے فیصلہ کن احکامات جاری کرے۔

دوسری جانب عوامی اور میڈیا حلقوں میں بھی اس معاملے پر شدید بحث جاری ہے۔ کچھ لوگ اسے عدالتی وقار کا معاملہ قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اسے سیاسی احتجاج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ کیس اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں قانون، سیاست اور عدلیہ تینوں ایک دوسرے کے سامنے آ گئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں عدالت کا فیصلہ اس پورے تنازع کی سمت طے کرے گا۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *